“آپکو پاکستان مبارک ہو”

 تاریخ گواہ ہے کہ یہ اعلان بڑا ہی دردناک تھا جیسے ہی یہ اعلان سنا گیا تو لوگوں نے اپنی جائیدادیں اپنی زمینیں اپنی فیکٹریاں اپنے مکان حتی کہ اپنے خونی رشتے چھوڑ کر ایک ایسے ملک کی طرف ہجرت کی جس کو خوابوں کا ملک کہا جاتا تھا ایک ایسا ملک کہ جس کا نعرہ یہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس لا الہ کے دیس کی خاطر لوگوں نے اپنی ماؤں اپنی بہنوں اپنی بیٹیوں کی عزتیں قربان کر دی اپنے خون دیے اپنی جانیں دیں لیکن کیا یہ خوابوں کا ملک بن سکا کیا یہ وہ ملک بن سکا کہ جس کے لیے لوگوں نے سب کچھ چھوڑا تھا

اس بات کا اندازہ اسی بات سے ہو جاتا ہے کہ اگر آج پاکستان میں یہ اعلان کر دیا جائے کہ یورپ کے تمام ویزے پاکستانیوں کے لیے فری ہیں تو یقین کیجئے 95 فیصد تک پاکستانی پاکستان چھوڑ جائیں وہ لوگ ان لوگوں کی نسلیں ان کے خون کے جنہوں نے جانے پیش کی تھیں جنہوں نے عزتیں پیش کی تھیں جو ٹوٹے ہوئے بازو کے ساتھ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ ٹرینوں پہ لٹکتے ہوئے پاکستان پہنچے تھے مگر کیوں پہنچے تھے

اس بات کا بڑا افسوس ہوتا ہے کہ جس قائد نے یہ ملک بنایا اس قائد کی لاش ایک لاوارث ایمبولنس میں ملی تھی

ٹھیک ایک سال بعد لیاقت علی خان جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے ان کے ماتھے میں گولی ماری گئی اور قاتل آج تک نامعلوم ہےاس کے بعد محترمہ فاطمہ جناح مادر ملت 25 سال یا پتہ نہیں کتنے سال کہاں تھی کسی کو نہیں پتہ بے دردی سے قتل کیا گیا

اس کے بعد اس ملک میں کیا کیا ہوتا رہا اس کی کہانی آپ سب کو معلوم ہے بڑی دردناک کہانی ہے یہ آزادی ہے یا غلامی ہے ہمیں نہیں پتہ آج بھی اگر پاکستان کے ریلوے ٹریکس کو دیکھا جائے یہ بہت سارے ایسے پل دیکھے جائیں جو ابھی بھی انگریزوں کے تعمیر کردہ ہیں ابھی تک ان کو ٹھیک نہیں کیا گیا بلکہ وہی چل رہے ہیں اگر گورے شاید پاکستان میں ہوتے یا ابھی تک ہم پہ حکومت کر رہے ہوتے تو ہم بہت ہی زیادہ ڈیویلپ ہو چکے ہوتے لیکن ہم نے کیا کیا ایک ملک بنانے کے بعد یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم اس ملک کے بارے کچھ کرتے ہمارے حکمران ہمارے جرنیل ہمارے ججز ہماری سول انتظامیہ ہماری پولیس یہ سب کون ہیں یہ سب آپ ہیں یہ سب میں ہوں ہم سب لوگ ہیں جو خراب ہیں یہ کوئی اوپر بیٹھ کے باہر سے بیٹھ کر خراب نہیں ہے یہ ہم سب لوگ ہیں ہم سب لوگ کیوں اتنے بے وفا اور کتنے بے مروت ہو گئے

اس بات کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجئے کہ آپ کے گھر کے باہر اگر کوڑے کا ایک شاپر پڑا ہو تو آپ نہیں اٹھائیں گے کیوں کیونکہ یہ سامنے والے نے پھینکا ہے یہ اس کی ذمہ داری ہے آپ کی ذمہ داری بالکل نہیں ہے ایک چھوٹی سی چیز بھی ہم کسی کے لیے فری میں نہیں کرتے ہمارے ریڑی والے سے لے کر اوپر بیٹھے ہوئے حکمران تک جس کو 10 روپے کی کرپشن کا موقع ملا اس نے نہیں چھوڑا تو جس کو 10 ارب کا ملا کیا وہ اس کو چھوڑ دے گا جب آپ نہیں چھوڑ سکتے تو وہ کیوں چھوڑے گا

آپ نے کیا کیا اس ملک کے لیے میں نے کیا کیا کبھی آپ نے کوئی پودا لگایا نہیں اوکھاڑے بہت ہوں گے پھول بہت اوکھاڑے ہوں گے کیا کبھی آپ نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ترقی کی؟ کیا آپ نے ٹک ٹاک یوز کی بالکل کی ہوگی سکرال کرتے ہوں گے واٹس ایپ سکرول کرتے ہوں گے فیس بک انسٹاگرام سکرال کرتے ہوں گے آپ نے کبھی ایسا کچھ بنانے کی کوشش کی ہے؟ کہ جس سے اس ملک کا وہ جو نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس نعرے کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے

اس ملک کو ایک اسلامی ریاست بنائیں اسلام کا مکتب ہرگز یہ نہیں کہ فلاں کافر فلاں کافر فلاں کافر فلاں کافر نہیں میرے نبی کافروں کو مسلمان بنانے آئے تھے اور ہم نے مسلمانوں کو کافر بنا دیا ہمارے دل میں ہمارے دماغوں میں جنت صرف اتنی سی ہے کہ جس کے اندر ہم صرف خود فٹ آسکتے ہیں ساتھ والا بندہ بھی اس میں نہیں جا سکتا ہم لاکھ گنہگار ہیں لیکن اس میں فٹ آجائیں گے دوسرے کی ایک غلطی بھی اس کو جنت میں نہیں لے کر جائے گی کیوں کیوں اتنے تنگ نظر کیوں اتنے تنگ دل ہو چکے ہیں ہم آخر کب تک آخر کب تک ہم صرف نعرے سنیں گے صرف باجے سنیں گے جائیے آپ بھی ایک باجا لیجیے اور بجائیے

اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں کچھ بنانا چاہتے ہیں تو یہ آپ نے کرنا ہے یہ آپ کا ملک ہے یہ آپ نے ذمہ داری اٹھانی ہے میں کسی سیاستدان کی سائیڈ پہ نہیں ہوں میں کسی ججز کسی جرنیل کی سائیڈ پہ نہیں ہوں لیکن آپ اور میں جس دن بدلیں گے یہ ملک بدلے گا جس دن آپ اور میں نہیں بدلیں گے اس دن کچھ بھی نہیں بدلے گا لاکھ اچھا لیڈر آجائے حکمران آجائے کچھ بھی نہیں بدلنے والا جب تک ہمارا ریڑھی والا نہیں بدلے گا جب تک ہم خود نہیں بدلیں گے جب تک ہمارا کچرہ اٹھانے والا نہیں بدلے گا جب تک ہمارا کام کرنے والا مزدور نہیں بدلے گا ہم سب جب تک نہیں بدلیں گے کچھ بھی نہیں بدلے گا آئیے ایک دفعہ نعرہ لگائیے اور پھر سو جائیے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ

“shurahbeel hassan”

Spread the love